ریاست و ملک

آسام کے گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں حراستی مراکز نہیں تو کیا پکنک مقام ہیں؟

گوہاٹی: 28؍دسمبر (ذرائع) ریٹائرڈ فوجی محمد ثناء اللہ جنہوں نے زندگی کی تین دہائی تک ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دی۔ آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آرسی) کی فائنل لسٹ میں نام نہیں آنے کے بعد انہیں گوہاٹی سے چار گھنٹے کے فاصلے پر واقع گولپارا کے ڈٹینشن سی نٹر میں ڈال دیا گیا تھا، معاملہ عدالت میں پہنچا، آخر کار 8 جون کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے انہیں ضمانت ملی لیکن اس وقت تک ثناء اللہ قریب سال بھر کا وقت ڈٹینشن سینٹر میں گزار چکے تھے۔ ثناء اللہ سے جب وزیر اعظم مودی کے ڈٹینشن سینٹر پر دئے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تلخی بھرے انداز میں کہا کہ اگر گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں ڈٹینشن سینٹر نہیں ہیں تو کیا پکنک مقام ہیں؟۔ دراصل گولپارا ڈٹینشن سینٹر آسام کے 6 ڈٹینشن سینٹروں میں سے ایک ہے، بات چیت میں ثناء اللہ کے چہرے پر وہاں ان کے ساتھ ہوئے رویے کو لے کر مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ ثناء اللہ نے کہاکہ این آرسی لسٹ میں سے 19 لاکھ لوگ باہر ہوئے ہیں، ان میں سے ایک میں بھی ہوں، ورثہ ڈیٹا میں میں نے حکام کو 1966 کی ووٹر لسٹ دکھائی، جس میں میرے والد کا نام تھا، گھر کے باقی اراکین نے بھی ایسا ہی کیا تھا؛ لیکن میرے اوپر ایک فارنر کیس زیر التوا تھا، تو میرا نام لسٹ میں نہیں آیا، میں نے فوج میں کشمیر سے لے کر منی پور تک فخر کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی، 2017 میں گروپ کیپٹن کی پوسٹ سے ریٹائر ہوتے وقت تک مجھے نہیں معلوم تھا کہ اپنے ہی ملک میں مجھے غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا۔ ڈٹینشن سینٹر میں گزارے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ثناء اللہ نے بتایا کہ ایک بیرک میں 40 سے 50 لوگ رکھے جاتے تھے، بیرک محض ایک چھوٹے سے کمرے جیسا تھا، جیسا سلوک وہاں ہوتا تھا، ویسا کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے، نام صرف ڈٹینشن سینٹر ہے، کارروائی مکمل جیل جیسی ہوتی ہے۔ ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ڈٹینشن سینٹر ہیں ہی نہیں تو گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں کیا ہیں؟ کیا وہ پکنک مقام ہیں؟ ڈٹینشن سینٹر نہ ہوں تو اسے دوسرا نام دے دو، اسے جیل بتا دو، جیل کے اندر اندر لوگوں کو کیوں رکھا جا رہا ہے؟ ۔ثناء اللہ کے خاندان کے لئے گزشتہ چند ماہ برے خواب کی طرح تھے، پانچ افراد کے خاندان میں ثناء اللہ سمیت بیوی اور تین بچے ہیں‘ ان کے ستگاؤں میں واقع عام سے مکان تک ایک کچی پکی سڑک جاتی ہے،سالوں تک فوج میں کام کرنے کے بعد ثناء اللہ نے یہ مکان بنایا،اپنی عام آمدنی میں سے جو تھوڑی بہت بچت اس خاندان نے کی تھی، اس کا زیادہ تر حصہ قانونی فیس میں خرچ ہو گیا۔ ثناء اللہ کی بیوی سلیمہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتی ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی نے کہا کہ حکومت نے بھلے ہی این آرسی لسٹ سے باہر ہوئے لاکھوں قانونی مدد کا اعلان کیا ہو، لیکن ایسی کوئی مدد ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے،جو تھوڑی سی راحت کی بات ہے، وہ یہ کہ ثناء اللہ کا معاملہ میڈیا میں آ گیا،اس کے بعد انہیں گوہاٹی ہائی کورٹ سے 8 جون کو ضمانت ملی، انہیں پوری امید ہے کہ ملک کے لئے کی گئی خدمات کو دیکھتے ہوئے عدالت ان کے ساتھ انصاف ضرور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں ہندوستانی ہوں، ہندوستانی کے طور پر ہی مروں گا اور مجھے دفن بھی یہیں کیا جائے گا۔ 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×