آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط

0
شیئر
34
دیکھا گیا

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور آذربائیجان کی قیادت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ پاشنیان کے مطابق وہ آئندہ دنوں میں قوم سے خطاب کریں گے۔

اعلان

پاشنیان نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر کی گی پوسٹ میں اپنے ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس فیصلے کو دشوار قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عسکری صورت حال کے گہرے تجزیے اور ان افراد کی جانب سے جائزے کے بعد کیا گیا جو موجودہ صورت حال کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔

اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتین نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کی افواج اپنے موجودہ ٹھکانوں ہر ٹھہر گئی ہیں۔ پوتین نے امید ظاہر کی ہے کہ طے پانے والے سمجھوتوں کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جو نگورنو کاراباخ کے بحران کے طویل المدت تصفیے کے حوالے سے مدد گار ثابت ہوں گے۔ یہ دونوں ملکوں کے عوام کے کام آئے گا۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق اس نے اپنے 1960 فوجی نگورنو کاراباخ کے علاقے میں بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ مزید یہ کہ امن فوج کو روس سے فضائی راستے منتقل کیا جا رہا ہے۔ روسی امن فوج نگورنو کاراباخ کو آرمینیا سے جوڑنے والی پوری گزر گاہ پر تعینات کی جائے گی۔

امن معاہدے کے اعلان کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ آرمینیا کے دارالحکومت یرے وان میں مشتعل مظاہرین نے حکومتی صدر دفتر پر حملہ کر دیا۔ غصے میں بپھرے مظاہرین کے جتھوں نے منگل کو علی الصبح حکومتی صدر دفتر پر دھاوا بول دیا۔ یہ لوگ متنازع علاقے میں فائر بندی کے معاہدے پر احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے حکومتی دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور متعدد کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے۔

دوسری جانب آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے منگل کی صبح ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ان کے ملک نے روس کی وساطت سے آرمینیا کے ساتھ نگورنو کاراباخ میں فائر بندی کے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں وہ "ہتھیار ڈالنے کی دستاویز” ہے جس نے یرے وان حکومت کو 6 ہفتوں کی معرکہ آرائی کے بعد دستخط کرنے پر مجبور کر دیا۔ علییف نے مزید کہا کہ "میں نے کہا تھا کہ ہم انہیں نکال باہر کریں گے ،،، ہم نے ایسا کر دکھایا”۔

اس سمجھوتے کا مقصد نگورنو کاراباخ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 27 ستمبر کو آذربائیجان اور آرمینیا کے بیچ شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا ہے۔ کاراباخ 1990ء کی دہائی میں ہونے والی جنگ کے دوران آذربائیجان سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ اس جنگ میں 30 ہزار کے قریب افراد مارے گئے تھے۔

روس کو آرمینیا کا عسکری حلیف شمار کیا جاتا ہے تاہم اس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔

اعلان
اگلی پوسٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سماجی رابطے

اشتہار

Email Us Today To Book This Space: [email protected]

تازہ ترین خبریں

Login to your account below

Fill the forms bellow to register

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

×
pornopornopornopornopornoporno
pornopornoporno pornopornoporno