اسلامیات

فتح وکامرانی اتحاد واتفاق ہی سے ممکن! !

عروج و ترقی، اقبال مندی و سربلندی، خوشحالی وفارغ البالی اورذہنی وقلبی سکون کےحصول کی تمنا، آرزو اور خواہش ہر ایک فردبشر اور نوع انسانی کو ہوتی ہے؛ مگر اس عظیم سرمایہ کا حصول بغیر اتحاد واتفاق، باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی محبت ومودت کے ممتنع اور ایک خواب و خیال ہے، جس کی توقع اور امید بے سود ہے –
جب تک فرزندان توحید کے اندر باہمی اتحاد واتفاق پایاجاتارہا،تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی کا علم پوری دنیا میں لہراتے رہے، اور جب سے انہوں نے اتحاد واتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف وانتشار پھیلانا شروع کیا، تو ان کو سخت ترین ہزیمت وشکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا –
کسی بھی قوم وملت کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے ضروری اور اہم چیز ان کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا پایا جانا ہے، اتحاد ایک زبردست طاقت وقوت اور ایسا ہتھیار ہے ،کہ اگر تمام مسلمان متحد ومتفق ہو جائیں، تو کوئی دوسری قوم مسلمانوں سے مقابلہ تو دور کی بات آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی؛ مگر عدم اتفاق ہی کی بناء پر آج پوری دنیا میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، کوئی بھی ایسی ایذا نہیں، جس سے مسلمانوں کو دوچار نہیں کیا جاتا ہو-
الغرض ہر طرح کے  ظلم و جور کاتختہ مشق صرف مسلمانوں کو ہی بنایا جارہا ہے،  عصمت دری کے واقعات ہوں یا بے وجہ معصوم بے گناہ مسلمانوں کو جیل کے سلاخوں میں ڈالنے کے واقعات، ہجومی تشدد اورمآب لینچنگ کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں،یہ تو اسلام دشمنوں کا ایک شعار اور مشغلہ بن چکا ہے، کہ جہاں کہیں بھی اگر کوئی تنہا مسلمان پکڑا گیا ،تو اس پر درندوں اور بھیڑیوں کی طرح یکبارگی دوڑتے ہیں، اور اس وقت تک بےتحاشا زدو کوب کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ تنہا معصوم بےگناہ مسلمان دم  توڑ کر داعی اجل کو لبیک نہ کہ دے –
ابھی حال ہی میں چند درندوں نے ہریانہ کے ضلع  سونی پت کے مانک ماجرا گاؤں کی مسجد کے پینتیس سالہ امام محمد عرفان اور پچیس سالہ ان کی اہلیہ یاسمین عرف مینا کا تیز دھار ہتھیار سےبہیمانہ قتل کردیا ہے ،اس قتل نے مسلمانوں کے دلوں دماغ کو ہلاکر رکھ دیا ہے ، عصمت دری اور مآب لینچنگ تو تھمنے کے درپے نہیں، اور اس میں روز بروز کثرت ہی ہورہی ہے –
اب سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں پر اتنے برے حالات کیوں آئے ہیں؟ جب کہ لاکھوں انسان دعائیں کر رہے ہیں، نمازیں پڑہ رہے ہیں، روزے رکھ رہے ہیں، اور پھر بھی امت ذلیل ہے، امت مظلوم ہے ،امت پر دشمن مسلط ہے ، ،کیوں ایسا ہورہا ہے؟ اس لیے کہ آپس میں لڑ رہی ہے، خانہ جنگی، فتنہ پردازی، مسجد مسجد لڑائی، مدرسہ مدرسہ لڑائی، تنظیم تنظیم میں لڑائی، یہ لڑائیاں ہیں، جس نے آج ہمیں ذلت سے ہمکنار کردیا ،اور اللہ نے پہلے ہی کہ دیا تھا : "”ولاتنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم”” آپس میں مت جھگڑنا، ورنہ ناکام ہو جاؤگے ،پسپا ہوجاؤگے ،نامراد ہوجاؤگے ، تمہاری ہوااکھڑ جائے گی، تو وہ اللہ، جو حاکم بھی ہے، قانون سازبھی ہے، خالق بھی ہے ، اسی نے بنایا، جب وہ خود ہی کہہ رہا ہے، تو پھر آپ اپنی شکایت لیکر کہاں جائیں گے،  اپنے سے شکایت کیجئے ،اپنے کو ملامت کیجئے، اپنے گریبان میں جھانکیے ،اور کہہ کہ ائے سیاہ دل یہ سارے کرتوت تیرے ہیں، اپنے دماغ سے کہہ یے کہ ائے کالے دماغ یہ سارے کرتوت تیرے ہیں –
حضور علیہ الصلاة والسلام نے تمام مسلمانوں کی مثال جسم کے اعضاء سے بیان فرمائی، ارشاد فرمایا :”” مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمي”” ایمان والوں کی مثال آپس کی محبت، آپس کی رحم دلی ،آپس کی شفقت اور تعلق میں ایسی ہے ،جیسے جسم کے اعضاء ہیں، جسم کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کے احساس میں شریک ہوتا ہے، انسان بیدار ہو تاہے ،نیند نہیں آتی، تو پورے جسم کو نیند نہیں آتی ہے، اور بخار آتا ہے توپورے جسم کو بخار آتا ہے، بعینہ اسی طرح تمام مسلمانوں کے مابین تعلق ضروری ہے –
آج عالم اسلام کی نازک صورت حال اور خود ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام مسلمان، خصوصا وارثین انبیاء کرام اتحاد واتفاق اور اجتماعیت کی دعوت دیں اور اس بات کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی ہمہ مسلکی پروگرام اور لائحہ عمل بھی بنائیں، اس صورت میں امت مسلمہ کے اندر اتحادو اتفاق قائم ہوسکتا ہے اور اس کاکھویا ہوا وقار بھی واپس آسکتاہے –
اتحاد واتفاق کی عظیم دولت امت مسلمہ میں پیدا کرنے کی ایک حسین اور خوبصورت شکل یہ ہے مسلمان آپسی فرقہ بندیوں کو ختم کرکے قرآن واحادیث کو اپنا آئیڈیل اور مشعل راہ بناتے ہوئے ، سب سے پہلے امت مسلمہ اپنے عقائد واعمال اور افکار و نظریات میں اتحاد پیدا کریں ،اور جب عقائد واعمال درست ہوجائیں گے ،تو فطری طور پر مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا ہونا لازمی امر ہے-
امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی فروعی ومسلکی اختلافات اور ذاتی نزاعت وانتشار کو دور کرکے اتحاد اسلامی کی لڑی میں منسلک ہوجائیں، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں –

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×