اسلامیات

عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری

از: مفتی محمد عبدالحمید قاسمی معلم جامعہ صدیقیہ فیض العلم کریم نگر

اسلام ایک ابدی حقیقت ہے اور باطل کی اس کے ساتھ آویزش بھی رسم قدیم ہے ملل سابقہ کی باطل کے ساتھ کشمکش ہمیشہ جاری رہی ہیں-اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جو ملت جتنی کامل و مکمل ہوتی ہے اس کو اسی قدر باطل کے ساتھ نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، آخری امت جسے سید المرسلین، خاتم النبیین، فخر موجودات، رحمت مجسم، پیکر صدق وصفا، منبع جود و سخا، حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے ہیں، سنت قدیمہ کے مطابق روز اول سے باطل کے ساتھ پنجہ آزما رہی ہے اور ہمیشہ اس کو داخلی اور خارجی فتنوں سے نمٹنا پڑا ہے اُنہی میں سے ایک فتنہ "قادیانیت کا فتنہ” ہے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا فتنہ چودھویں صدی کا عظیم فتنہ ہے جسے انگریز نے اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر جنم دیا ، علماء کرام نے مرزا کی زندگی سے ہی اس کا تعاقب شروع کردیا تھا جو ابتک جاری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا- بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے اس فتنہ کا تعاقب کرے، اور اس فتنہ کے سد باب اور سرکوبی کے لئے ہر مُمکنہ کوشش کرے- کیوں کہ قادیانی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، گوکل پر مختلف نام کے قادیانی ویب سائٹس کے ذریعہ جھوٹی نبوت کی تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان نوجوانوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف امت مُسلمہ کی ایک بڑی تعداد قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بالکل ناواقف ہے، جس سے قادیانی پورا فائدہ اٹھارہے ہیں اور اپنی ارتدادی مہم کو بہت تیزی کے ساتھ جاری رکھیں ہیں حالات کی ان سنگینیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، قادیانیت کو کیفرکردار تک پہنچانا اور جڑھ سے ختم کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اسی غرض سے چند چیزیں پیشِ خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں-

(1) سب سے پہلے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور عوام الناس کے درمیان اتحاد کی فضا کو عام کیا جائے, کیونکہ کہ اس فتنہ کو کچلنے کے لئے اتحاد کا بہت بڑا دخل ہے-
(2) قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے والے نو مسلموں کا دینی، مالی اور جانی تحفظ ھی ضروری ہے تاکہ نو مسلم حضرات ان کے دامِ فریب کا شکار ہوکر دوبارہ قادیانیت قبول نہ کرلیں اس لئے ان کو اسلام کے بنیادی عقائد و احکام سے واقف کرانے کے ساتھ ان کی معاشی حالت کو بھی مستحکم کیا جائے-
(3) ہر علاقہ کے ذمہ دار و دانشورانِ ملت کی ذمہ داری ہے کہ اخبارات و رسائل کے ذریعہ مختلف زبانوں میں ختم نبوت کے لٹریچر کو عام کریں جس میں خاص طور پر عقیدہ ختم نبوت، رد قادیانیت، اور حیات عیسیٰ جیسے عظیم موضوعات پر روشنی ڈالی جائے-
ختم نبوت کے لٹریچر کو عام کریں جس میں خاص طور پر عقیدہ ختم نبوت، رد قادیانیت، اور حیات عیسیٰ جیسے عظیم موضوعات پر روشنی ڈالی جائے-
(4) کسی بھی تنظیم کے ابھرنے اور ترقی کے پیچھے ایک راز مالیہ نظام کا مستحکم ہونا بھی ہوتا ہے ، اس لئے قادیانی مصنوعات اور پروڈکٹس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، تاکہ ان کی معیشت کمزور پڑجائے اور ان کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ ختم نبوت کے خلاف کام کرنے کا جذبہ ، فکریں اور ہمتیں پست ہوجائیں-
(5) ہر جگہ مسلمانوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کا شعور بیدار کرنے کی غرض سے بڑے پیمانہ پر سالانہ ایک کانفرنس قائم کی جائے اور خصوصاً وقفہ وقفہ سے جمعہ کے موقع پر ائمہ وخطباء حضرات اسی عنوان کو جمعہ کا موضوع بنائیں، ان شاء اللہ اس طرح مثبت اور غیر محسوس انداز میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی بات آسانی کے ساتھ عوام تک پہنچ جائے گی-
(6) اگر معلوم ہو جائے کہ کہیں مسلمانوں اور قادیانیوں کی بیٹیاں آپس میں ایک دوسرے کے یہاں ازدواجی زندگی میں منسلک ہیں (اللہ تعالیٰ اُنھیں ہدایت دے) ایسی صورتحال میں بالخصوص اہل علم اور خُدَّامِ تحفظ ختمِ نبوت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ایسے مسلمانوں سے فوراً رابطہ قائم کریں اور انھیں قرآن وحدیث کی روشنی میں بتلائیں کہ قادیانی مسلمان نہیں کافر ہے اور سمجھائیں کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کا نکاح ہرگز جائز نہیں ہوسکتا –
(7) اگر کسی علاقے میں قادیانی اور مسلمان رہتے ہوں تو مسلمانوں کو قادیانیوں کی شادی اور تقریبات میں شامل نہ ہونے دیں، کیوں کہ مسلمان ان کے کلچر، تہذیب،رہن سہن اور طور طریقوں سے متأثر ہوکر ان کے شکار نہ بن جائے-
(8) رد قادیانیت کورس رکھ کر طلبہ، وکلاء، ڈاکٹرس انجینئرس، سرکاری وغیر سرکاری ملازمین غرض یہ کہ زندگی کہ ہر طبقہ اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے واقف کرایا جائے، نیز ہر بستی سے ایک اور شہر کے سارے محلوں سے ایک کو کم از کم "عقیدۂ ختمِ نبوت” کی بنیادی اور اہم باتوں سے واقف کراکر اس کو ذمہ دار بنایا جائے تاکہ وہ پوری بستی اور سارے محلہ کو قادیانیت کے فتنہ سے محفوظ رکھ سکے۔
(9) ختم نبوت سے جڑے ہوئے اور ہر شہر کے ذمہ دار و اہل علم "ختم نبوت” "رد قادیانیت” اور حیاتِ عِیسیٰ کے موضوعات پر مدارس اسکول اور کالجس میں سالانہ ایک معلوماتی مسابقتی تحریری امتحان اور اگر ممکن ہو تو ایک پروگرام تقریری مقابلہ بھی کا رکھا جائے، اور "عقیدۂ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری و تقسیم انعامات کے عنوان سے ایک جلسہ منعقد کیا جائے اور اچھے نمبرات سے کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات میں اول، دوم ، سوم اور ترغیبی انعامات سے نوازہ جائے-
(10)اخبارات میں "مراسلات ” کا جو کالم ہوتا ہے جس میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا جاتا ہے جس میں عوام اپنے مذھبی، سماجی، سیاسی، اور اقتصادی مسائل پر آواز اٹھاتی ہے، جس کا اثر بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آواز پورے ملک میں خواص و عوام اور حکومت تک پہنچتی ہے، اس لئے مختلف زبانوں میں "مراسلات” کے کالم میں "ختم نبوت” کے عنوان پر وقفہ وقفہ سے لکھا جائے، ان شاء اللہ اس کا غیر محسوس طریقہ پر فائدہ ہوگا-
(11)مساجد، دینی مدارس، مسلم مینیجمنٹ عصری اسکولس، کالجس، ،یونیورسٹیوں، اور ان کے دفاتر میں نیز دوکانوں، فیکٹریوں اور رفاہی تنظیموں کے دفاتر میں "اَنَا خَاتَمُ النَبِیّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ” کے چارٹ دیواروں اور اہم جگہوں پر آویزاں کیا جائے، تاکہ بار بار اس پر نظر پڑنے کی وجہ سے "عقیدۂ ختمِ نبوت” ہر ایک کے دل میں مضبوطی کے ساتھ راسخ و پیوست ہوجائے-
(12) ارتداد کا ایک سبب کبھی غریبی اور غربت بھی ہوتی ہے اس لئے گاؤں، دیہات میں رہنے والوں پر خصوصاً خُدَّامِ تحفظ ختمِ نبوت خاص نظر رکھیں، اگر ممکن ہو تو اپنی تنظیم کے تحت غرباء و مساکین میں مالی امداد اور ضروری سامان ان تک مہیا کرایا جائے، نیز معاشی اعتبار سے ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں تاکہ قادیانی قرض اور مال وغیرہ کی امداد کے بہانے اُن بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھنسالے-
(13) راقم نے بعض علاقوں کی کارکردگی سنی ہے جس میں دیہاتوں میں قادیانی اپنے آپ کو مسلمان بتاکر بحیثیت معلم مسلم بچوں کو قرآن مجید کی غلط تراجم و تشریحات بیان کرکے مرزا قادیانی کی نبوت کو سچا اور قادیانیت کو ثابت کرکے مسلمان بچوں کے دل و دماغ میں قادیانی عقائد و نظریات کو راسخ کرکے قادیانیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں نیز بچے چُوں کہ استاذ کی عزت کرتے ہیں تو اہل حق ان کے مخالف ہوجائے تو یہ بچے ان کے لئے بہت بڑا سہارا بن جاتے ہیں، لہٰذا خُدّامِ تحفظِ ختمِ نبوت ایسے معلمین پر خصوصی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی بغرض امتحان وہاں پہونچ کر بچوں کی تعلیمی رپورٹ اور عقائد و نظریات کیا ہیں معلوم کرتے رہیں –
(14) یہ بات بھی سنی گئ ہے کہ دیہات اور گاؤں کے غریب طبقہ کے لوگ علم حاصل کرنے ، محنت و مزدوری کرنے اور ملازمت وغیرہ کے سلسلہ میں شہر کا رُخ کرتے ہیں، تو مالدار قادیانی اپنی ذاتی رہائشی عمارت کا مفت یا کرایہ کے کمروں کا انتظام کرتے ہیں،تاکہ ان کو قریب کرکے قادیانیت کے عقائد اور نظریات کی چھاپ چھوڑ کے ان کو اپنی طرف مائل کرسکے – لھذا اپارٹمینٹس اور خاص طور پر کرائی کی وہ عمارتیں جہاں مسلمان آکر کرایہ سے رہتے ہیں وہاں سروے کرتے ہوئے دینی کتب ان تک پہنچا کر دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھا جائے، نیز گاؤں کے سروے فارم میں نام، پتہ ،پیشہ، علمی قابلیت کے ساتھ ,دیہات کے لوگوں کے شہر کے رہائشی مقام کا خانہ بھی بنائیں اگر ممکن ہو تو ان کے شہر آنے پر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے-
(15) دینی مدارس میں ہفتہ واری انجمنوں میں یا کم از کم ماہانہ اجتماعی انجمنوں میں ختم نبوت کے عنوان سے طلباء کو تقاریر پیش کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ مثبت انداز میں ختم نبوت کے پیغام کو عام کیا جاسکے-
(16) نظم و نسق اور منظم انداز میں کام کرنے کے لئے ہر ضلع میں باضابطہ تحفظ ختم نبوت کا ایک دفتر قائم کیا جائے-
(17) ہر علاقہ میں ایک مستقل ٹیم اور جماعت ہو، جس کا کام صرف عقیدۂ ختمِ نبوت کے مواد کو جمع کر کر اخبارات و رسائل میں شائع کرنے کے ساتھ مختصر کلپ بناکر سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو عام کیا جائے-
(18) تحفظ عقیدہ ختم نبوت کی خدمت میں لگے ہوئے حضرات کے لئے ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ دینی لٹریچر و دیگر ضروری اخراجات کے لئے مالی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے مہینہ میں ایک دفعہ شہر کی مختلف مساجد میں کسی بھی ایک نماز میں تعاون کی اپیل کرائ جائے، جس کا ایک خاص فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اعلان کے وقت عقیدۂ ختمِ نبوت کی مختصر وضاحت عوام کے سامنے آجائے گی-
(19) شہر کے ذمہ دار و دانشوران ملت عقیدۂ ختمِ نبوت مہم کے نام سے لوگوں میں شعور بیداری کے لئے کم از کم سال میں ایک دفعہ شہر اور اس کے اطراف کے دیہات و منڈل کے لوگوں کے لئے ایک تربیتی کیمپ منعقد کریں –
(20) اگر کسی علاقہ میں تحفظ ختم نبوت کا دفتر موجود ہو تو قادیانی یا کسی بھی فتنہ کے دفاع یا بات چیت کے ذریعے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے ذمہ دار یا دفتر کے فون کو عام کیا جائے-

(21) اللہ تعالٰی نے نبی کریم ﷺ کو جتنی صفات دیکر مبعوث فرمایا ہے ان میں سے ہر ہر صفت پر بندہ جان قربان کرے ان صفات میں ایک عظیم صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ،”خاتم الانبیاء” اور "خاتم النبیین "ہے لہذا ہر مسلمان کو دونوں جہاں کی کامیابی اور اپنی سعادت سمجھتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنی جان و مال اور صلاحیتوں کو صرف کرنے کے لئے ہمیشہ کمر بستہ اور تیار رہے

خلاصہ کلام:

قرآن و حدیث کے دلائل اور بِلا تفریقِ مسالک تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی کافر ہے، نبی کریم ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے آخری رسول اور آخری نبی ہیں، نبوت کے دروازہ کو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بند فرمادیا،اب اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا، مکار اور کذاب ہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں ہوگا اورآپ کی لائی ہوئی ہدایت ”دینِ اسلام” آخری ہدایت ہے اور اسی پر انسانیت کی کامیابی کا مدار ہے۔بہرکیف! اہل علم پر واجب ہے کہ وہ قادیانیت کا تعاقب کرکے اس کی بیخ کَنی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور عوام ُالناس کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔اہل ثروت اور مالدار حضرات عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی خاطر عقیدۂ ختم نبوت کے عنوان پر مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتابوں کو شائع کرکے بالخصوص متاثرہ علاقوں میں عام کیا جائے نیز تحفظ ختم نبوت اور اس کے تحت چلنے والی تنظیموں کو مالی امداد کے ذریعہ مضبوط و مستحکم کریں-
تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی غرض سے یہ چند باتیں تحریر کی گئی ہیں تاکہ فتنہ قادیانیت کا قلع قمع کیا جاسکے-ختم نبوت زندہ آباد
دُعا ہے کے اللہ تعالیٰ فتنۂ قادیانیت سےامت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور خدام تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی خدمات کو قبول فرمائے، آمین یارب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×